نئی دہلی:7/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )بی جے پی لیڈر ترون وجے کو اس وقت اپنے الفاظ واپس لینے پڑ گئے، جب وہ ہندوستان میں پھیلی نسل پرستی کے مسئلے پر بولتے ہوئے ایک متنازعہ نسل پرستانہ تبصرہ کردیا۔بین الاقوامی میڈیا ہاؤس کے مباحثہ کے دوران وجے نے کہا تھا کہ ہندوستانیوں کو نسل پرست کہنا غلط ہوگا،کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ہم جنوبی ہندوستان کے ساتھ کیسے رہ پاتے؟بعد میں وجے نے اس بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ شاید ان کے الفاظ پوری بات ٹھیک سے نہیں کہہ پائے۔انہوں نے معافی مانگتے ہوئے لکھا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا،جو سمجھا گیاہے۔ٹوئٹر پر صفائی دیتے ہوئے ترون وجے نے لکھا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے ملک کے کئی حصوں میں الگ الگ اور مختلف رنگ ونسل کے لوگ رہتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا۔بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں نسل پرستی کے مسئلے پر ایک ٹی وی مباحثہ میں حصہ لینے کے دوران ترون وجے نے جنوبی ہندوستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے ارد گرد کتنے سیاہ فام لوگ ہیں، حالانکہ ٹوئٹر پر صارفین کی ناراضگی کا سامنا کرنے کے بعد وجے نے کہا ہے کہ انہوں نے غلطی سے بھی جنوبی ہندوستانیوں کے لیے سیاہ لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ میں نے کہا تھا کہ ہم کرشن کی پوجا کرتے ہیں،جس کا مطلب کالا ہوتا ہے، نسل پرستی اور رنگ بھید کے خلاف مزاحمت کرنے والوں میں ہم پہلے تھے اور ہم خود برطانوی دور میں نسل پرستی کا شکار رہے ہیں۔اس معاملے پر بی جے پی کی ترجمان شائنا این سی نے کہا ہے کہ ترون اپنی بات بہتر طریقے سے کہہ سکتے تھے۔اس معاملے پر بی جے پی کی ترجمان شائنا این سی نے کہا ہے کہ ترون اپنی بات بہتر طریقے سے کہہ سکتے تھ۔واضح رہے کہ ترون وجے ایم پی رہے چکے ہیں اور تامل شاعر تھرولو ر کے عقیدت مند ہیں۔